جمعہ 30 جنوری 2026 - 23:10
آیت الله العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی اہانت ناقابلِ برداشت: امام جمعہ تاراگڑھ اجمیر

حوزہ/مولانا سید نقی مہدی زیدی نے تاراگڑھ اجمیر ہندوستان میں نمازِ جمعہ کے خطبوں میں نمازیوں کو تقوائے الٰہی کی نصیحت کے بعد حسب سابق امام حسن عسکری علیہ السّلام کے وصیت نامے کی شرح و تفسیر کی اور خواتین کے حقوق کا بیان کرنے کے بعد ماہِ شعبان المعظم کی عظمت و منزلت بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ مہینہ برکتوں کا، عظمتوں کا، مغفرتوں کا مہینہ ہے، اعمال کا مہینہ ہے، روزہ رکھنے کا مہینہ ہے، اس مہینے میں جو شخص روزہ رکھے گا خداوند عالم اس کو جہنم کی آگ سے دور کرے گا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مولانا سید نقی مہدی زیدی نے تاراگڑھ اجمیر ہندوستان میں نمازِ جمعہ کے خطبوں میں نمازیوں کو تقوائے الٰہی کی نصیحت کے بعد حسب سابق امام حسن عسکری علیہ السّلام کے وصیت نامے کی شرح و تفسیر کی اور خواتین کے حقوق کا بیان کرنے کے بعد ماہِ شعبان المعظم کی عظمت و منزلت بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ مہینہ برکتوں کا، عظمتوں کا، مغفرتوں کا مہینہ ہے، اعمال کا مہینہ ہے، روزہ رکھنے کا مہینہ ہے، اس مہینے میں جو شخص روزہ رکھے گا خداوند عالم اس کو جہنم کی آگ سے دور کرے گا۔

انہوں نے صفوان جمال روایت کی روایت بیان کرتے ہوئے کہا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا اپنے قریبی لوگوں کو ماہ شعبان میں روزہ رکھنے پر آمادہ کرو، میں نے عرض کیا آپ پر قربان ہو جاؤں اس میں کوئی فضیلت ہے؟ آپؑ نے فرمایا ہاں، اور فرمایا رسول اللہ جب شعبان کا چاند دیکھتے تو آپ کے حکم سے ایک منادی یہ ندا کرتا اے اہل مدینہ! میں رسول خدا کا نمائندہ ہوں اور ان کا فرمان ہے کہ شعبان میرا مہینہ ہے۔ خدا کی رحمت ہو اس پر جو اس مہینے میں میری مدد کرے، یعنی روزہ رکھے، صفوان کہتے ہیں امام جعفر صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے تھے جب سے منادئ رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ ندا دی اس کے بعد شعبان کا روزہ مجھ سے قضا نہیں ہوا، اور جب تک زندگی کا چراغ گل نہیں ہو جاتا یہ روزہ مجھ سے ترک نہیں ہو گا، نیز فرمایا کہ شعبان اور رمضان دو مہینوں کے روزے توبہ اور بخشش کا موجب ہیں، اسماعیل بن عبد الخالق سے روایت ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر تھا وہاں روزۂ شعبان کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا ماہ شعبان کے روزے رکھنے کی بہت زیادہ فضیلت ہے حتیٰ کہ ناحق خون بہانے والے کو بھی ان روزوں سے فائدہ پہنچ سکتا ہے اور بخشا جا سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ماہ شعبان میں نیکیوں (کے ثواب) میں درخت کی شاخوں کی طرح اضافہ ہوتا ہے، کیوں کہ شعبان کے مہینے میں بہت سی نیکیاں تقسیم کی جاتی ہیں اس وجہ سے اس مہینے کو شعبان کہتے ہیں، شعبان کا لفظ عربی گرامر کے اعتبار سے شعب سے بنا ہے جس کے لفظی معنی شاخ در شاخ کے ہیں۔ اس مہینے میں چونکہ خیرو برکت کی شاخیں پھوٹتی ہیں اور نیکیوں میں درخت کی شاخوں کی طرح اضافہ ہوتا ہے، اس وجہ سے اس کو شعبان کہا جاتا ہے۔

غنیۃ الطالبین وغیرہ میں ہے کہ شعبان میں پانچ حروف ہیں اور پانچوں حروف خداوند تبارک و تعالیٰ کے پانچ عظیم انعامات کا رمز اور اشارہ ہیں چنانچہ

" ش" اشارہ ہے شرف کا "ع" علو یعنی رفعت و بلندی کا، "ب" بر یعنی احسان اور بھلائی کا، "ا" الفت کا اور "ن" نور کا اشارہ ہے، پس یہ انعامات الٰہیہ ماہ شعبان کے قدر دانوں کے لئے مخصوص انعامات ہیں جو اس ماہ میں عبادتوں کا اہتمام کیا کرتے ہیں۔

خطیب جمعہ تاراگڑھ حجۃ الاسلام مولانا نقی مھدی زیدی نے کہا کہ پندرہ شعبان المعظم کی رات شب شب برأت کے نام سے مشہور ہے۔ اس رات کو خدا اپنے بندوں کو جهنم سے آزادی کی برأت دے دیتا ہے اس لئے اس رات کو شب برأت کہا جاتا ہے، اس رات کو لیلة المبارکه اور لیلة الرحمه کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔

انہوں نے شب برأت کی عظمت و منزلت بیان کرتے ہوئے کہا کہ شب برأت یعنی نجات کی رات، رستگاری اور چھٹکارے کی رات، اس رات کو شب برأت اس لئے کہتے ہیں کہ اس رات میں دو قسم کی برأت ہوتی ہے: (۱) ایک برأت تو بدبختوں کو خدائے تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے۔ (۲) دوسری برأت خدا کے دوستوں کو ذلت و خواری سے ہوتی ہے۔ جس طرح مسلمانوں کے لئے اس روئے زمین پر عید کے عیدالفطر و عیدالاضحیٰ اسی طرح فرشتوں کے لئے آسمان پر دو راتیں شبِ برأت و شبِ قدر عید ہے۔

امام جمعہ تاراگڑھ حجۃالاسلام مولانا نقی مھدی زیدی نے کہا کہ احادیث شریفہ میں شبِ برأت کی بہت زیادہ فضیلت اور اہمیت بیان کی گئی ہے اس کو شب قدر کے ہم پلہ کہا گیا ہے، امام جعفر صادق علیہ السلام نے پندرہ شعبان کی رات کو شب قدر کے بعد سب سے افضل ترین رات قرار دی ہیں، احادیث میں پیغمبر اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمہ معصومین علیہم السلام سے پندرہ شعبان کی رات شب بیداری اور عبادت انجام دینے کی بہت زیادہ سفارش ہوئی ہے۔ منجملہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ: جبرئیل نے پیغمبر اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پندرہ شعبان کی رات نیند سے بیدار کیا اور نماز پڑھنے، قرآن کریم کی تلاوت کرنے اور دعا و استغفار کی سفارش کی۔ ایک اور روایت میں آیا ہے کہ پیغمبر اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک زوجہ نے پندرہ شعبان کی رات آپؐ کے بارے میں خاص عبادتوں جیسے طولانی اور متعدد سجدوں کے انجام دینے کی خبر دی ہے۔ امام علی علیہ السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام نے بھی اس رات خاص اعمال کی انجام دہی کی سفارش کی ہے، اس کے علاوہ متعدد احادیث میں پندرہ شعبان رات کی اہمیت اور فضیلت بیان ہوئی ہے۔ ان میں سے بعض یہ ہیں: خدا کی خشنودى، بخشش، رزق و روزی اور نیكى کے دروازوں کا کھلنا، انسان کے رزق و روزی کی تقسیم اور تمام انسانوں کی مغفرت سوائے مشرک، قمار باز (جواری)، قطع رحم كرنے والا، شراب خور اور وہ انسان جو گناه پر اصرار کرتا ہے۔

حجت الاسلام مولانا نقی مہدی زیدی نے کہا کہ ١٥ شعبان المعظم روز ولادت باسعادت حضرت امام زمانہ عج اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف ہے یہ وہ دن ہے جس کی بشارت دی گئی ہے اور یہ عظیم دن اسلام کی سربلندی اور کفر کے سرنگوں ہونے کا بھی دن ہے۔ اس رات اور اس دن میں خداوند عالم نے ہمیں وہ عظیم امام عطا فرمایا ہے جس کی مثال دنیا و آخرت میں نہیں ہے۔ یہ وہ امام عظیم الشان ہیں کہ جو تمام انبیاء علیہم السلام کے وعدوں کو پورا کریں گے، ان کے مشن کو آخری منزل تک پہنچائیں گے، کفر و نفاق کو سرنگوں کریں گے، ظلم و جور کا خاتمہ کریں گے اور ہر جگہ عدل و انصاف پھیلائیں۔

انہوں نے امام زمانہ عجل اللہ تعالٰی فرجہ الشریف کی ایک اہم خصوصیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ: یہ امام زمانہ عجل اللہ تعالٰی فرجہ الشریف تاریخ ہدایت میں حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امیر المومنین امام علی علیہ السلام سے لے کر امام حسن عسکری علیہ السلام تک منفرد ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ظلم و جور سے بھری دنیا کو عدل و انصاف سے پر کرنے کی ذمہ داری صرف اور صرف امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کو دی ہے، امام علیہ السلام ظہور کے بعد دنیا کے صرف کسی ایک خطہ کو عدل و انصاف سے پر نہیں کریں گے بلکہ پوری دنیا کو مشرق سے لے کر مغرب تک، شمال سے لے کر جنوب تک ہر جگہ عدل و انصاف کو قائم کریں گے۔ کسی ایک جگہ پر ایک ذرہ برابر بھی ظلم نہیں ہوگا۔‌

حجۃ الاسلام مولانا نقی مہدی زیدی نے ظہور کے بعد کے حالات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جب امام علیہ السلام ظہور فرمائیں گے تو زمین میں پانی کی سطح بلند ہو جائے گی، زمین اپنے سینے میں چھپے ہوئے خزانوں کو اگل دے گی، درخت پھلدار ہو جائیں گے، مرض اور بیماری ختم ہو جائے گی، کیونکہ یہ تمام پریشانیاں انسانوں کے گناہوں کے سبب ہیں لیکن جب گناہ اور ظلم کا خاتمہ ہو جائے گا اور نظام عدل قائم ہو جائے گا، زمین پر آل محمد علیہم السلام کی حکومت قائم ہو جائے گی تو تمام موجودات اپنے فائدے کو ظاہر کریں گے۔ ہم خدا سے دعا کرتے ہیں کہ خدا ہمیں اس امام وقت کی معرفت عطا فرمائے اور صحیح معنوں میں ان کا انتظار کرنے والوں میں شمار فرمائے اور ہمیں ان خصوصیات اور صفات سے آراستہ فرمائے جن کی بنا پر ہم امام وقت کے خدمت گزاروں میں، نوکروں میں، کفش برداروں میں شمار ہو سکیں کہ جب ہماری ان سے ملاقات ہو تو ہم ان کو دیکھ کر نہ ہم شرمندہ نہ ہوں اور نہ ان کو ہمیں دیکھنے سے تکلیف ہو، خدا ان تمام چیزوں میں ہمیں بہترین توفیقات عطا فرمائے۔

امام جمعہ تاراگڑھ حجۃالاسلام مولانا نقی مہدی زیدی نے حالات حاضرہ کے حوالہ سے بیان کرتے ہوئے کہا کہ رہبر معظم انقلاب آیت الله العظمیٰ سید علی خامنہ ای حفظہ اللہ صرف ایران کے رہبر ہی نہیں، بلکہ دنیا بھر کے شیعوں کے لئے آفتاب علم و فقاہت کے ساتھ ساتھ مستضعفین کی امید اور ان کے حقوق کے حقیقی محافظ ہیں، ان کی توہین درحقیقت شیعہ عقیدے کی توہین ہے۔ ہندوستان میں بھی بے شمار شیعہ آیت الله العظمیٰ سید علی خامنہ ای حفظہ اللہ کے مقلدین اور ان کو ایک فکری، اخلاقی اور سیاسی رہنما کے طور پر دیکھتے ہیں، آیت الله العظمیٰ سید علی خامنہ ای حفظہ اللہ کی اہانت ناقابلِ برداشت ہے اور ان کے خلاف قتل کی دھمکی دینا ایک گھناؤنا، بزدلانہ اور دہشت گردانہ عمل ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمارا سب سے بڑا فریضہ دعا ہے: رہبرِ معظم انقلاب آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای حفظہ اللہ کے لیے دعا، اسلام کی سربلندی کے لیے دعا، پرچمِ توحید کی نصرت کے لئے دعا، امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے ظہور میں تعجیل کے لئے دعا کریں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha